مرکزی مواد پر جائیں
پاکستان ایڈیشن پیر، ۲۱ ستمبر ۲۰۲۶ لائیو نیوز روم آر ایس ایس
Advertisement
22 میڈیا انٹرنیشنل اردو

یکساں سول کوڈ پر مودی حکومت کا اصرار، مسلمانوں میں تشویش

انڈیا کے شہر بنگلور میں 21 جنوری 2020 کو وزیراعظم نریندر مودی اور انڈیا کے نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے افراد شیواجی نگر کے چاندنی چوک میں امن احتجاجی مظاہرے کے لیے جمع ہیں (فائل…

یکساں سول کوڈ پر مودی حکومت کا اصرار، مسلمانوں میں تشویش
22 میڈیا انٹرنیشنلعالمِ اسلام ڈیسک
عالمِ اسلام22 میڈیا خبر
شیئر
مختصر

انڈیا کے شہر بنگلور میں 21 جنوری 2020 کو وزیراعظم نریندر مودی اور انڈیا کے نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے افراد شیواجی نگر کے چاندنی چوک میں امن احتجاجی مظاہرے کے لیے جمع ہیں (فائل…

عالمِ اسلام
22 میڈیا رپورٹعالمِ اسلام
۳ منٹ مطالعہ

انڈیا کے وزیر داخلہ نے حکمراں ہندو قوم پرست جماعت کے زیرِ انتظام ریاستوں میں متنازع یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو مزید وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے اقلیتی مسلمانوں میں تشویش بڑھنے کا امکان ہے۔

انڈیا کی ایک ارب 40 کروڑ آبادی مشترکہ فوجداری قانون کے تحت آتی ہے، تاہم شادی، طلاق اور وراثت جیسے ذاتی معاملات کے قوانین مختلف برادریوں اور مذاہب کی روایات کے مطابق الگ الگ ہیں۔

Advertisement

ان متنوع قوانین کی جگہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) متعارف کرانا وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ایک دیرینہ ہدف رہا ہے۔

اب تک کم از کم چار ریاستیں یو سی سی نافذ کر چکی ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کہا: ’ہم نے کئی ریاستوں میں یو سی سی نافذ کیا ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ 2029 تک بی جے پی کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے زیرِ انتظام تمام 21 ریاستوں میں اسے نافذ کر دیں گے۔‘۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)۔

یکساں سول کوڈ کی مہم نے خصوصاً مسلم شہریوں کے درمیان تشویش پیدا کر رکھی ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان کی مذہبی آزادیوں پر زد پڑے گی۔

Advertisement

حامیوں کا مؤقف ہے کہ یو سی سی مسلمانوں کی خواتین کو دیگر خواتین کے برابر حقوق فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت تعددِ ازدواج کا خاتمہ، بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے جائیداد میں مساوی وراثتی حقوق اور طلاق کے معاملات کا سول عدالتوں کے ذریعے طے ہونا شامل ہے۔

دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈیا میں ہندو اکثریت ہے۔ تاہم یہاں تقریباً 22 کروڑ مسلمان بھی آباد ہیں، جس کے باعث انڈیا دنیا کی تیسری بڑی مسلم آبادی کا حامل ملک ہے۔

انڈیا کے اگلے عام انتخابات 2029 میں متوقع ہیں۔ نریندر مودی نے 2024 کے انتخابات میں مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی تھی، تاہم انہیں اتحادی حکومت بنانے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں، بشمول آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم رہنماؤں (جیسے اسد الدین اویسی) نے اس بل پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔

مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کا پرسنل لا قرآن و سنت سے ماخوذ ہے، جس میں کسی قسم کی تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔ یکساں سول کوڈ کا نفاذ ان کے مطابق براہِ راست ان کے مذہبی عقائد میں مداخلت ہے۔

اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ انڈین آئین کا آرٹیکل 25 شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے، جبکہ یکساں سول کوڈ اس بنیادی حق کو مجروح کرتا ہے۔

پبلشر22 میڈیا انٹرنیشنل
ادارتی معیاردرستگی · تصحیح · جوابدہی
کوریج ڈیسکعالمِ اسلام
قارئین کی گفتگو

تبصرے اور رائے

مہذب اور موضوع سے متعلق گفتگو میں حصہ لیں۔ ذاتی حملوں، نفرت انگیزی اور اسپیم سے گریز کریں۔

۰تبصرے
22 میڈیا کمیونٹی

اپنی رائے شامل کریں

آپ کی ای میل شائع نہیں کی جائے گی۔ ضروری خانے نشان زد ہیں۔

زیادہ سے زیادہ ۵۰۰۰ حروف

تبصرہ جمع کر کے آپ ہماری کمیونٹی ہدایات سے اتفاق کرتے ہیں۔