پچیس سالہ سرور ان اندازاً پانچ لاکھ مزدوروں میں شامل ہیں جو ہر سال اس ہمالیائی خطے میں روزگار کی تلاش میں دیگر ریاستوں سے آتے ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019 سے اب تک علاقے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں بیرون ریاست سے آئے کم از کم 24 مزدور ہلاک ہو چکے ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق اسی عرصے کے دوران 1,500 سے زائد افراد مارے گئے، جن میں 219 عام شہری شامل تھے۔
گزشتہ ماہ ہونے والے ایک حملے میں مسلح افراد نے وسطی ریاست چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے دو مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم محمد غلام سرور جیسے مزدوروں کے لیے روزگار سے حاصل ہونے والے فوائد خطرات سے زیادہ اہم ہیں۔
سرور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''کشمیر حقیقی جنت ہے۔ جب تک میرے اندر کام کرنے کی طاقت ہے، میں ہر سال یہاں آتا رہوں گا۔
سرور کا تعلق مشرقی ریاست بہار سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں لاکھوں بھارتی روزگار کے لیے خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں، وہیں بعض مزدوروں کے لیے کشمیر تقریباً اتنی ہی آمدنی فراہم کرتا ہے، جبکہ بیرونِ ملک ہجرت کے اخراجات اور پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
سرور کو کشمیر میں روزانہ 1,200 بھارتی روپے، یعنی تقریباً 12 ڈالر، اجرت ملتی ہے، جبکہ اسی کام کے لیے بہار میں انہیں تقریباً 700 روپے ملتے ہیں، وہ بھی اس صورت میں جب وہاں کام دستیاب ہو۔
مسلم اکثریتی بھارت کے زیر انتظام کشمیر بھارت میں بے روزگاری کی بلند ترین شرحوں والے علاقوں میں شامل ہے۔ لیکن ایسے کاموں کے لیے بیرونی مزدوروں پر اس کا انحصار بڑھ رہا ہے جنہیں بہت سے مقامی افراد معمولی نوعیت کے کام سمجھتے ہیں۔ ان میں گھریلو ملازمت، زراعت اور تعمیرات شامل ہیں۔
مقامی کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ انہیں متعدد کاموں کے لیے ایسے کارکن تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جو کام کرنے کے لیے تیار یا دستیاب ہوں۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے محمد اشرف میر نے کہا، ''دستکاری کے شعبے کو چھوڑ دیں تو کشمیر میں مقامی ہنرمند افرادی قوت ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں۔‘‘۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں پر انحصار بڑھ رہا ہے اور یہ صورت حال مکمل انحصار کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مرکزی شہر سری نگر کے اہم چوراہوں پر ہر صبح مزدوروں کے گروہ جمع ہو جاتے ہیں اور کام ملنے کا انتظار کرتے ہیں۔
زیادہ تر مزدور تقریباً آٹھ ماہ تک کشمیر میں قیام کرتے ہیں اور سخت سردیوں کے آغاز سے قبل واپس چلے جاتے ہیں۔ سردیوں میں تعمیراتی سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں اور زرعی کام بھی کم ہو جاتے ہیں۔

Pakistan · World · Independent Digital Newsroom

Comments & Discussion
Join a respectful, on-topic conversation. Personal attacks, hate speech and spam may be removed.