Skip to content
Pakistan Edition Monday, September 21, 2026 Live newsroom RSS
Advertisement
22MEDIA INTERNATIONAL اردو

عسکریت پسندوں کے حملوں کے باوجود بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزدوروں کی آمد جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 ستمبر 2026ء) ہر موسم بہار میں مستری محمد غلام سرور زیادہ اجرت کی تلاش میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا رخ کرتے ہیں، حالانکہ اس متنازع ہمالیائی خطے میں عسکریت پسندوں کا نشانہ بننے کا…

عسکریت پسندوں کے حملوں کے باوجود بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزدوروں کی آمد جاری
22MEDIA INTERNATIONALWeather Desk
Weather22MEDIA STORY
Share
IN SHORT

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 ستمبر 2026ء) ہر موسم بہار میں مستری محمد غلام سرور زیادہ اجرت کی تلاش میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا رخ کرتے ہیں، حالانکہ اس متنازع ہمالیائی خطے میں عسکریت پسندوں کا نشانہ بننے کا…

Weather
22MEDIA REPORTWeather
3 min read

پچیس سالہ سرور ان اندازاً پانچ لاکھ مزدوروں میں شامل ہیں جو ہر سال اس ہمالیائی خطے میں روزگار کی تلاش میں دیگر ریاستوں سے آتے ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2019 سے اب تک علاقے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں بیرون ریاست سے آئے کم از کم 24 مزدور ہلاک ہو چکے ہیں۔

Advertisement

ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق اسی عرصے کے دوران 1,500 سے زائد افراد مارے گئے، جن میں 219 عام شہری شامل تھے۔

گزشتہ ماہ ہونے والے ایک حملے میں مسلح افراد نے وسطی ریاست چھتیس گڑھ سے تعلق رکھنے والے دو مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم محمد غلام سرور جیسے مزدوروں کے لیے روزگار سے حاصل ہونے والے فوائد خطرات سے زیادہ اہم ہیں۔

سرور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ''کشمیر حقیقی جنت ہے۔ جب تک میرے اندر کام کرنے کی طاقت ہے، میں ہر سال یہاں آتا رہوں گا۔

سرور کا تعلق مشرقی ریاست بہار سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں لاکھوں بھارتی روزگار کے لیے خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں، وہیں بعض مزدوروں کے لیے کشمیر تقریباً اتنی ہی آمدنی فراہم کرتا ہے، جبکہ بیرونِ ملک ہجرت کے اخراجات اور پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

سرور کو کشمیر میں روزانہ 1,200 بھارتی روپے، یعنی تقریباً 12 ڈالر، اجرت ملتی ہے، جبکہ اسی کام کے لیے بہار میں انہیں تقریباً 700 روپے ملتے ہیں، وہ بھی اس صورت میں جب وہاں کام دستیاب ہو۔

Advertisement

مسلم اکثریتی بھارت کے زیر انتظام کشمیر بھارت میں بے روزگاری کی بلند ترین شرحوں والے علاقوں میں شامل ہے۔ لیکن ایسے کاموں کے لیے بیرونی مزدوروں پر اس کا انحصار بڑھ رہا ہے جنہیں بہت سے مقامی افراد معمولی نوعیت کے کام سمجھتے ہیں۔ ان میں گھریلو ملازمت، زراعت اور تعمیرات شامل ہیں۔

مقامی کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ انہیں متعدد کاموں کے لیے ایسے کارکن تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جو کام کرنے کے لیے تیار یا دستیاب ہوں۔

کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے محمد اشرف میر نے کہا، ''دستکاری کے شعبے کو چھوڑ دیں تو کشمیر میں مقامی ہنرمند افرادی قوت ضرورت کے مطابق دستیاب نہیں۔‘‘۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں پر انحصار بڑھ رہا ہے اور یہ صورت حال مکمل انحصار کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مرکزی شہر سری نگر کے اہم چوراہوں پر ہر صبح مزدوروں کے گروہ جمع ہو جاتے ہیں اور کام ملنے کا انتظار کرتے ہیں۔

زیادہ تر مزدور تقریباً آٹھ ماہ تک کشمیر میں قیام کرتے ہیں اور سخت سردیوں کے آغاز سے قبل واپس چلے جاتے ہیں۔ سردیوں میں تعمیراتی سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں اور زرعی کام بھی کم ہو جاتے ہیں۔

PUBLISHER22Media International
EDITORIAL STANDARDAccuracy · Corrections · Accountability
COVERAGE DESKWeather
Reader Conversation

Comments & Discussion

Join a respectful, on-topic conversation. Personal attacks, hate speech and spam may be removed.

0comments
22MEDIA COMMUNITY

Join the conversation

Your email will not be published. Required fields are marked.

Up to 5,000 characters

By posting, you agree to our community and moderation guidelines.