Skip to content
Pakistan Edition Monday, September 21, 2026 Live newsroom RSS
Advertisement
22MEDIA INTERNATIONAL اردو

’کمپنیز کو اے آئی ماڈلز خطرناک محسوس ہوں تو وہ رفتار کم کر دیں‘: ٹرمپ کے مشیر کا مشورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مصنوعی ذہانت کے مشیر ڈیوڈ سیکز نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک کو مشورہ دے دیا

’کمپنیز کو اے آئی ماڈلز خطرناک محسوس ہوں تو وہ رفتار کم کر دیں‘: ٹرمپ کے مشیر کا مشورہ
22MEDIA INTERNATIONALWorld Desk
World22MEDIA STORY
Share
IN SHORT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مصنوعی ذہانت کے مشیر ڈیوڈ سیکز نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک کو مشورہ دے دیا

World
22MEDIA REPORTWorld
3 min read

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان اے آئی کمپنیز کو اپنے آئندہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز خطرناک محسوس ہوتے ہیں تو کمپنیز اپنے ماڈلز کو جاری کرنے میں تاخیر کر سکتی ہیں، اس کے لیے قانون سازوں کا انتظار ضروری نہیں۔

ڈیوڈ سیکز نے کہا ہے کہ دونوں کمپنیاں مقبولیت، ترقی اور ماڈلز کی طاقت کے اعتبار سے پہلے ہی مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، اس لیے یہ کمپنیز خود اپنی رفتار کم کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔

Advertisement

ڈیوڈ سیکز کا یہ بیان اینتھروپک سے وابستہ جیکب کاکسن کے استعفے کے بعد سامنے آیا ہے، اس بیان نے مصنوعی ذہانت کے سلامتی سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

ڈیوڈ نے جیکب کاکسن کے معاملے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے مطابق استعفے کی خبر وائرل ہونے سے قبل کاکسن کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کوئی نمایاں سابقہ ریکارڈ یا فالوورز موجود نہیں تھے۔

جیکب کاکسن کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی دوڑ میں شامل اور اس عمل سے انسانی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

ڈیوڈ کے پروگرام کے شریک میزبان جیسن کیلاکانس نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جیکب کاکسن نے پروگرام میں انٹرویو کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم ملاقات سے عین قبل کاکسن نے اسے منسوخ کر دیا تھا۔

ڈیوڈ سیکز نے مصنوعی ذہانت کی رفتار کم کرنے کی ایک اہم وجہ ممکنہ قانونی ذمے داری کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی وجہ سے بڑا سائبر حملہ یا سنگین واقعہ پیش آتا ہے تو متعلقہ کمپنی کو بھاری ہرجانے اور قانونی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Advertisement

انہوں نے اینتھروپک کے ممکنہ حصص فروخت کرنے کے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کمپنی کے محققین مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں تو یہ خدشات مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو دی جانے والی معلومات اور قانونی ذمے داریوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اینتھروپک کمپنی کی ممکنہ قدر 2 ٹریلین ڈالرز تک پہنچنے کی بات بھی سامنے آ چکی ہے۔

مصنوعی ذہانت کے گاڈفادر کہلانے والے جیفری ہنٹن کے مطابق اے آئی سے خطرے کو صرف 1 فیصد سمجھنا بھی انتہائی غیر ذمے دارانہ ہو گا۔

ڈیوڈ سیکز نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں پیش گوئی کے قابل رویہ کاروبار کے لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ صارفین ایسی ٹیکنالوجی پسند کرتے ہیں جس کے نتائج قابلِ توقع ہوں، چاہے اسے مصنوعی ذہانت کی ہم آہنگی کہا جائے یا بہتر مصنوعات کی تیاری۔

واضح رہے کہ اینتھروپک کے شعبۂ ہم آہنگیٔ سائنس (Alignment Science division) کے سربراہ ایون ہوبنگر بھی جیکب کاکسن کے مؤقف کی حمایت کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آئندہ 10 برس میں مصنوعی ذہانت کے باعث انسانیت کے خاتمے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

PUBLISHER22Media International
EDITORIAL STANDARDAccuracy · Corrections · Accountability
COVERAGE DESKWorld
Reader Conversation

Comments & Discussion

Join a respectful, on-topic conversation. Personal attacks, hate speech and spam may be removed.

0comments
22MEDIA COMMUNITY

Join the conversation

Your email will not be published. Required fields are marked.

Up to 5,000 characters

By posting, you agree to our community and moderation guidelines.