انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان اے آئی کمپنیز کو اپنے آئندہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز خطرناک محسوس ہوتے ہیں تو کمپنیز اپنے ماڈلز کو جاری کرنے میں تاخیر کر سکتی ہیں، اس کے لیے قانون سازوں کا انتظار ضروری نہیں۔
ڈیوڈ سیکز نے کہا ہے کہ دونوں کمپنیاں مقبولیت، ترقی اور ماڈلز کی طاقت کے اعتبار سے پہلے ہی مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، اس لیے یہ کمپنیز خود اپنی رفتار کم کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔
ڈیوڈ سیکز کا یہ بیان اینتھروپک سے وابستہ جیکب کاکسن کے استعفے کے بعد سامنے آیا ہے، اس بیان نے مصنوعی ذہانت کے سلامتی سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ڈیوڈ نے جیکب کاکسن کے معاملے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے مطابق استعفے کی خبر وائرل ہونے سے قبل کاکسن کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کوئی نمایاں سابقہ ریکارڈ یا فالوورز موجود نہیں تھے۔
جیکب کاکسن کا کہنا ہے کہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی دوڑ میں شامل اور اس عمل سے انسانی زندگی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
ڈیوڈ کے پروگرام کے شریک میزبان جیسن کیلاکانس نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جیکب کاکسن نے پروگرام میں انٹرویو کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم ملاقات سے عین قبل کاکسن نے اسے منسوخ کر دیا تھا۔
ڈیوڈ سیکز نے مصنوعی ذہانت کی رفتار کم کرنے کی ایک اہم وجہ ممکنہ قانونی ذمے داری کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی مصنوعی ذہانت کے ماڈل کی وجہ سے بڑا سائبر حملہ یا سنگین واقعہ پیش آتا ہے تو متعلقہ کمپنی کو بھاری ہرجانے اور قانونی کارروائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اینتھروپک کے ممکنہ حصص فروخت کرنے کے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کمپنی کے محققین مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں تو یہ خدشات مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو دی جانے والی معلومات اور قانونی ذمے داریوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اینتھروپک کمپنی کی ممکنہ قدر 2 ٹریلین ڈالرز تک پہنچنے کی بات بھی سامنے آ چکی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے گاڈفادر کہلانے والے جیفری ہنٹن کے مطابق اے آئی سے خطرے کو صرف 1 فیصد سمجھنا بھی انتہائی غیر ذمے دارانہ ہو گا۔
ڈیوڈ سیکز نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں پیش گوئی کے قابل رویہ کاروبار کے لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ صارفین ایسی ٹیکنالوجی پسند کرتے ہیں جس کے نتائج قابلِ توقع ہوں، چاہے اسے مصنوعی ذہانت کی ہم آہنگی کہا جائے یا بہتر مصنوعات کی تیاری۔
واضح رہے کہ اینتھروپک کے شعبۂ ہم آہنگیٔ سائنس (Alignment Science division) کے سربراہ ایون ہوبنگر بھی جیکب کاکسن کے مؤقف کی حمایت کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آئندہ 10 برس میں مصنوعی ذہانت کے باعث انسانیت کے خاتمے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

Pakistan · World · Independent Digital Newsroom

Comments & Discussion
Join a respectful, on-topic conversation. Personal attacks, hate speech and spam may be removed.