مرکزی مواد پر جائیں
پاکستان ایڈیشن پیر، ۲۱ ستمبر ۲۰۲۶ لائیو نیوز روم آر ایس ایس
Advertisement
22 میڈیا انٹرنیشنل اردو

آبنائے ہرمز پر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات موخر

عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیر کو ہونے والا اجلاس ’’اتفاق رائے کے مفاد میں‘‘ مؤخر کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز پر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات موخر
22 میڈیا انٹرنیشنلدنیا ڈیسک
دنیا22 میڈیا خبر
شیئر
مختصر

عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیر کو ہونے والا اجلاس ’’اتفاق رائے کے مفاد میں‘‘ مؤخر کیا گیا ہے۔

دنیا
22 میڈیا رپورٹدنیا
۲ منٹ مطالعہ

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ہم اپنے خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کے لیے مکالمے کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہیں۔‘‘۔

تاہم انہوں نے مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اجلاس ملتوی کیے جانے کی مزید وجوہات بتائیں۔

Advertisement

مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران، عراق، عمان، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کو مدعو کیا گیا تھا۔

بدر البوسعیدی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ مذاکرات کی پیش رفت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں حکومتی نمائندوں کو بریفنگ دیں گے۔

تہران اور مسقط کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے طریقہ کار پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی تجارت کے لیے ایک اہم آبی راستہ ہے۔

ایرانی قیادت کے لیے آبنائے ہرمز امریکہ کے ساتھ جاری تنازع میں دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

فروری کے اختتام پر جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ایران نے دھمکیوں اور بحری جہازوں پر حملوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے آمدورفت بڑی حد تک روک دی تھی۔ اس سے قبل یہ سمندری گزرگاہ بحری جہازوں کے لیے کھلی تھی۔

Advertisement

دوسری جانب امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

ایران امریکی حکومت سے ان رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن پر جون میں ہونے والے ایک فریم ورک معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا۔

لندن سے عربی زبان کے خبر رساں ادارے ’العربی الجدید‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ تہران کے مطالبات پورے نہیں کرتا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ’’اقتصادی جنگ‘‘ کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ اور فوجی جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اس دوران حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب پر ان کے حملوں نے واشنگٹن کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ اپنے سعودی اتحادیوں کی حمایت اور بحری جہازوں کی آمدورفت کے تحفظ کا خواہاں ہے، تاہم وہ جنگ کے ایک اور محاذ میں شامل ہونے سے گریزاں ہے۔

پبلشر22 میڈیا انٹرنیشنل
ادارتی معیاردرستگی · تصحیح · جوابدہی
کوریج ڈیسکدنیا
قارئین کی گفتگو

تبصرے اور رائے

مہذب اور موضوع سے متعلق گفتگو میں حصہ لیں۔ ذاتی حملوں، نفرت انگیزی اور اسپیم سے گریز کریں۔

۰تبصرے
22 میڈیا کمیونٹی

اپنی رائے شامل کریں

آپ کی ای میل شائع نہیں کی جائے گی۔ ضروری خانے نشان زد ہیں۔

زیادہ سے زیادہ ۵۰۰۰ حروف

تبصرہ جمع کر کے آپ ہماری کمیونٹی ہدایات سے اتفاق کرتے ہیں۔