Skip to content
Pakistan Edition Sunday, September 20, 2026 Live newsroom RSS
Advertisement
22MEDIA INTERNATIONAL اردو

آبنائے ہرمز پر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات موخر

عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیر کو ہونے والا اجلاس ’’اتفاق رائے کے مفاد میں‘‘ مؤخر کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز پر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات موخر
22MEDIA INTERNATIONALWorld Desk
World22MEDIA STORY
Share
IN SHORT

عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیر کو ہونے والا اجلاس ’’اتفاق رائے کے مفاد میں‘‘ مؤخر کیا گیا ہے۔

World
22MEDIA REPORTWorld
2 min read

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ہم اپنے خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کے لیے مکالمے کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہیں۔‘‘۔

تاہم انہوں نے مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اجلاس ملتوی کیے جانے کی مزید وجوہات بتائیں۔

Advertisement

مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران، عراق، عمان، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کو مدعو کیا گیا تھا۔

بدر البوسعیدی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ مذاکرات کی پیش رفت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں حکومتی نمائندوں کو بریفنگ دیں گے۔

تہران اور مسقط کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے طریقہ کار پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی تجارت کے لیے ایک اہم آبی راستہ ہے۔

ایرانی قیادت کے لیے آبنائے ہرمز امریکہ کے ساتھ جاری تنازع میں دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

فروری کے اختتام پر جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ایران نے دھمکیوں اور بحری جہازوں پر حملوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے آمدورفت بڑی حد تک روک دی تھی۔ اس سے قبل یہ سمندری گزرگاہ بحری جہازوں کے لیے کھلی تھی۔

Advertisement

دوسری جانب امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔

ایران امریکی حکومت سے ان رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن پر جون میں ہونے والے ایک فریم ورک معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا۔

لندن سے عربی زبان کے خبر رساں ادارے ’العربی الجدید‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ تہران کے مطالبات پورے نہیں کرتا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ’’اقتصادی جنگ‘‘ کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ اور فوجی جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اس دوران حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب پر ان کے حملوں نے واشنگٹن کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ اپنے سعودی اتحادیوں کی حمایت اور بحری جہازوں کی آمدورفت کے تحفظ کا خواہاں ہے، تاہم وہ جنگ کے ایک اور محاذ میں شامل ہونے سے گریزاں ہے۔

PUBLISHER22Media International
EDITORIAL STANDARDAccuracy · Corrections · Accountability
COVERAGE DESKWorld
Reader Conversation

Comments & Discussion

Join a respectful, on-topic conversation. Personal attacks, hate speech and spam may be removed.

0comments
22MEDIA COMMUNITY

Join the conversation

Your email will not be published. Required fields are marked.

Up to 5,000 characters

By posting, you agree to our community and moderation guidelines.