انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ہم اپنے خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کے لیے مکالمے کو فروغ دینے کے عزم پر قائم ہیں۔‘‘۔
تاہم انہوں نے مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اجلاس ملتوی کیے جانے کی مزید وجوہات بتائیں۔
مذاکرات میں شرکت کے لیے ایران، عراق، عمان، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کو مدعو کیا گیا تھا۔
بدر البوسعیدی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ مذاکرات کی پیش رفت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں حکومتی نمائندوں کو بریفنگ دیں گے۔
تہران اور مسقط کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے طریقہ کار پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی سطح پر تیل، گیس اور کھاد کی تجارت کے لیے ایک اہم آبی راستہ ہے۔
ایرانی قیادت کے لیے آبنائے ہرمز امریکہ کے ساتھ جاری تنازع میں دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
فروری کے اختتام پر جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ایران نے دھمکیوں اور بحری جہازوں پر حملوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے آمدورفت بڑی حد تک روک دی تھی۔ اس سے قبل یہ سمندری گزرگاہ بحری جہازوں کے لیے کھلی تھی۔
دوسری جانب امریکی بحریہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
ایران امریکی حکومت سے ان رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن پر جون میں ہونے والے ایک فریم ورک معاہدے میں اتفاق کیا گیا تھا۔
لندن سے عربی زبان کے خبر رساں ادارے ’العربی الجدید‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ تہران کے مطالبات پورے نہیں کرتا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ’’اقتصادی جنگ‘‘ کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ اور فوجی جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
اس دوران حوثیوں کی پیش قدمی اور سعودی عرب پر ان کے حملوں نے واشنگٹن کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ اپنے سعودی اتحادیوں کی حمایت اور بحری جہازوں کی آمدورفت کے تحفظ کا خواہاں ہے، تاہم وہ جنگ کے ایک اور محاذ میں شامل ہونے سے گریزاں ہے۔

Pakistan · World · Independent Digital Newsroom

Comments & Discussion
Join a respectful, on-topic conversation. Personal attacks, hate speech and spam may be removed.