Skip to content
Pakistan Edition Sunday, September 20, 2026 Live newsroom RSS
Advertisement
22MEDIA INTERNATIONAL اردو

غزہ: اسرائیل کی کھینچی ’زرد لائن‘ فلسطینیوں پر ہوئی تنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 ستمبر 2026ء) غزہ شہر کے مشرقی علاقے الطفہ میں اولا اشطیوی اور ان کے بچے اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے کے سامنے بیٹھے ہیں۔ یہاں سے چند ہی میٹر کے فاصلے پر اسرائیل نے سیمنٹ…

غزہ: اسرائیل کی کھینچی ’زرد لائن‘ فلسطینیوں پر ہوئی تنگ
22MEDIA INTERNATIONALWeather Desk
Weather22MEDIA STORY
Share
IN SHORT

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 14 ستمبر 2026ء) غزہ شہر کے مشرقی علاقے الطفہ میں اولا اشطیوی اور ان کے بچے اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے کے سامنے بیٹھے ہیں۔ یہاں سے چند ہی میٹر کے فاصلے پر اسرائیل نے سیمنٹ…

Weather
22MEDIA REPORTWeather
3 min read

یہ لکیر اکتوبر 2025 میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا اعلان ہونے کے بعد قائم کی گئی تھی۔

ابتدا میں مغربی حصہ غزہ کے 47 فیصد علاقے پر محیط تھا تاہم اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، اسرائیلی فوج اس لکیر کو مغرب کی جانب پھیلا کر فلسطینیوں کا علاقہ مزید محدود کر رہی ہے۔

Advertisement

لکیر کے قریبی علاقے زیتون کی رہائشی ابتسام ملیکہ کے لیے اس صورتحال کا مطلب بار بار بے گھر ہونا، واپس آنا اور ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ کی تمام 21 لاکھ آبادی زرد لکیر کے مغربی حصے میں مقیم ہے۔ ان میں بہت سے لوگ زرد رنگ کے بلاکس کے قریب آباد ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان علاقوں، بالخصوص غزہ شہر کے مشرقی حصے میں واقع الطفہ اور زیتون میں اس لیے مقیم ہیں کہ ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔

الطفہ کی رہائشی صفہ مشتہٰی کہتی ہیں 'ہم کہاں جائیں؟' یہ وہ سوال ہے جو ان جیسے لوگ تین سال سے خود سے پوچھ رہے ہیں۔ ان کے لیے زرد لکیر کے قریب رہنا بھی قابل قبول تھا لیکن اب یہ زندگی ان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کے لیے نسبتاً محفوظ مقامات پر خیمہ بستیاں قائم کرنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ مناسب زمین کا بڑا حصہ زرد لکیر کے مشرق، جنوب اور شمال میں واقع ممنوعہ یا محدود علاقوں کے اندر واقع ہے۔

اوچا کے مطابق، غزہ کی تقریباً 19 لاکھ 80 ہزار یا 94 فیصد آبادی رہائش اور دیگر غیر غذائی ضروریات سے متعلق امداد کے محتاج ہے۔ 84 فیصد خاندان انتہائی دشوار حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں بہت سے لوگ ایسے عارضی ٹھکانوں یا خیموں میں مقیم ہیں جو موسم کی سختیوں سے تحفظ فراہم نہیں کرتے۔

Advertisement

اولا اشطیوی کے لیے زرد لکیر کے قریب رہتے ہوئے روزمرہ زندگی انتہائی مشکل ہو چکی ہے۔

زیتون کے رہائشی احمد ارحیم نے بتایا کہ فائرنگ اور ڈرون کی آوازوں کے باعث لوگوں کے لیے رات کو سونا دشوار ہو گیا ہے۔ بچے خوف زدہ رہتے ہیں اور بستر گیلا کر دیتے ہیں۔ بہت سے رہائشی پہلے ہی علاقے سے جا چکے ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق، 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کے بعد اب تک 1,334 افراد ہلاک اور 4,429 زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے کہا ہے کہ غزہ میں خونریزی بند ہونی چاہیے۔

دفتر کے مطابق، اگست کے اواخر میں صرف پانچ یوم کے دوران ہی اسرائیلی حملوں میں 24 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں چار بچے اور ایک خاتون بھی شامل تھیں۔ ان میں سے 21 افراد فضائی حملوں میں مارے گئے۔

برکس کانفرنس: یو این چیف کا منصفانہ ملٹی پولر عالمی نظام پر زور۔

ویمنز ٹی 20 ایشیاء کپ؛ بھارت نے ٹائٹل جیت لیا، محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار۔

PUBLISHER22Media International
EDITORIAL STANDARDAccuracy · Corrections · Accountability
COVERAGE DESKWeather
Reader Conversation

Comments & Discussion

Join a respectful, on-topic conversation. Personal attacks, hate speech and spam may be removed.

0comments
22MEDIA COMMUNITY

Join the conversation

Your email will not be published. Required fields are marked.

Up to 5,000 characters

By posting, you agree to our community and moderation guidelines.