سیکرٹری جنرل نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 1945 کے بعد دنیا میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اس لیے عالمی اداروں کو بھی ان تبدیلیوں کا عکاس ہونا چاہیے۔
انہوں نے سلامتی کونسل اور بریٹن وڈز نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے اور کثیر قطبیت عالمی نظام اور اداروں میں توازن اور مساوات پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ترقی پذیر ممالک کو عالمی برادری کی جانب سے بڑے پیمانے پر تعاون درکار ہے۔ کثیر ملکی ترقیاتی بینک زیادہ بڑا، بہتر اور زیادہ جرات مندانہ کردار ادا کریں، رعایتی مالی معاونت بڑھائیں اور قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کے موثر طریقہ کار وضع کریں۔
انتونیو گوتیرش نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات سے بھی خبردار کیا۔
یہ ٹیکنالوجی ترقی کی کئی دہائیوں کو چند برسوں میں سمیٹ سکتی ہے لیکن اس عمل کو بے لگام چھوڑ دیا گیا تو مصنوعی ذہانت کی خلیج آمدنی، مواقع، سلامتی اور خودمختاری سمیت ہر دوسری خلیج کو مزید وسیع کر دے گی۔
سیکرٹری جنرل نے موسمیاتی بحران کی بڑھتی ہوئی شدت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جھلسا دینے والی گرمی، پگھلتے گلیشیئر، جنگلوں کی بھڑکتی آگ اور تباہ کن سیلاب آنے والے خطرات کی جھلک ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بحر الکاہل میں جاری انتہائی طاقتور ایل نینو موسمی کیفیت حالات کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
انہوں نے عالمی حدت میں اضافے کے 1.5 ڈگری سیلسیئس کی حد عبور کرنے کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی تیز کرنے، میتھین گیس کے اخراج میں کمی لانے، قدرتی ماحول کے تحفظ اور ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کے استخراج، استعمال اور انتظام کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس سے معدنیات پیدا کرنے والے ممالک اور مقامی آبادیوں کو روزگار اور معاشی فوائد حاصل ہوں۔
انتونیو گوتیرش نے غزہ، مشرق وسطیٰ، یوکرین اور سوڈان میں جاری جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو امن کی ضرورت ہے۔ تمام ممالک اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کا احترام کریں۔ اس میں ہر ملک کی برابر خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں کا احترام بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے دنیا کثیر قطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، تمام ممالک کو مضبوط کثیرالفریقی نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جو اجتماعی مفاد کے لیے کام کرے اور اقوام متحدہ جس کا مرکز ہو۔
'مضبوطی، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر' حالیہ برکس اجلاس کا بنیادی موضوع تھا۔
اس موقع پر برکس رہنماؤں نے نئی دہلی اعلامیہ کی منظوری دی جس میں کثیر الفریقی نظام کو مضبوط بنانے، عالمی اداروں میں اصلاحات لانے اور ترقی پذیر ممالک کے کردار اور نمائندگی میں اضافے کا عزم کیا گیا ہے۔

Pakistan · World · Independent Digital Newsroom

Comments & Discussion
Join a respectful, on-topic conversation. Personal attacks, hate speech and spam may be removed.